نبئ اکرم، شفیع اعظم، دکهے دلوں کا پیام لے لو

نبئ اکرم، شفیع اعظم، دکهے دلوں کا پیام لے لو
تمام دنیا کے ہم ستاۓ،کهڑے ہوۓ ہیں سلام لےلو
شکستہ کشتی ہے تیز دهارا نظر سے روپوش ہے کناره
نہیں کوئی ناخدا ہمارا، خبر تو عالی مقام لے لو,
قدم قدم پہ ہے خوف_رہزن ، زمیں بهی دشمن فلک بهی دشمن
زمانہ ہے ہم سو ہوا ہے بدظن، تم ہی محبت سے کام لے لو
کبهی تقاضا وفا کا ہم سے, کبهی مذاق_جفا ہے ہم سے
تمام دنیا خفہ ہے ہم سے, خبر تو خیرالانام لےلو
یہ کیسی منزل پہ آگۓ ہیں, نہ کوئی اپنا نہ ہم کسی سے
آپ اپنے دامن میں آج آقا تمام اپنے غلام لے لو
یہ دل میں ارماں ہے اپنے طیب, مزار_اقدس پہ جاکے اک دن
سناؤں اون کو میں حال_دل کا, کہوں میں ان سے سلام لے لو
صلــی اللــہ علیـہ وسلــم
صلــی اللــہ علیـہ وسلــم
صلــی اللــہ علیـہ وسلــم

Hadith: Convey my teaching to the people

Hadith: Convey my teaching to the people

Enhanced by Zemanta

Hadith: Paradise lies beneath the feet of your Mother

 Hadith: Paradise lies beneath the feet of your Mother

Enhanced by Zemanta

Hadith: Signs of Hypocrate

Hadith: Signs of Hypocrate

Enhanced by Zemanta

Hadith: Preperation for Grave

Hadith: Preperation for Grave

Enhanced by Zemanta

Reasons of Earthquakeزلزلے کیوں آتے ہیں؟


إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا ﴿099:001﴾ – جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی


وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا ﴿099:002﴾ اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی

وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا ﴿099:003﴾ انسان کہنے لگے گا اسے کیا ہوگیا ہے۔

يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا ﴿099:004﴾ اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی

بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا ﴿099:005﴾ اس لئے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا۔

***************
زلزلے کیوں آتے ہیں؟

***************************

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی جو بیشمار نشانیاں بیان کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس زمانے میں زلزلوں کی کثرت ہوگی.کسی زمانے میں جب کہیں سے یہ اطلاعّ آتی تھی کہ فلاں جگہ زلزلہ آیا ہے اور اتنے لوگ اسکے نتیجے میں لقمہ اجل بن گئے ہیں تو دیندار اور خوف خدا رکھنے والے لوگ توبہ استغفار کرنے لگتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کی رو سے یہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے. مگر آجکل روزانہ ہی کہیں نہ کہیں زلزلے نمودار ہو رہے ہیں اور انکے نتیجے میں جانی اور مالی خسائروقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں. مگر لوگوں کے دلوں میں اس بات کا خوف جانگزین نہیں ہوتا کہ زلزلوں کا اس شدت کے ساتھ آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے بلکہ دلوں پر خوف کی جگہ ایک بے حسی کی کیفیت طاری ہو چکی ہے اور نصیحت حاصل کرنے کی بجائے تجاہل سے کام لیا جانے لگا ہے. قرآن مجید میں اللہ تعالی نے سورۃالزلزال میں وقوع قیامت کے حوالے سے ارشاد فرمایا ہے کہ:جب زمیں اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائیگی: (سورۃ الزلزال۔ آیۃ ۱) مفسرین اس آیت سے یہ معنی لیتے ہیں کہ اس وقت زمین کا کوئی مخصوص حصہ نہیں بلکہ پورے کا پورا کرہ ارض ہلا دیا جائیگا جسکے نتیجے میں دنیا کا وجود ختم ہو جائیگا. مگر اس عظیم زلزلے کے واقع ہو نے سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق زمین کے مختلف حصوں پر زلزلوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوجائیگا 


 

 

Enhanced by Zemanta

غیر مسلم مکّہ مکرمہ میں کیوں داخل نہیں ہو سکتے ؟


 آپ بذریعہ سڑک کسی بھی جانب سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوں تو حدود حرم کے آغاز سے کچھ پہلے سڑکوں پر جلی حروف میں بار بار یہ الفاظ تحریر نظر آتے ہیں کہ ”غیر مسلم کا مکّہ کی حدود میں داخلہ منع اور فقط مسلمین مکّہ میں داخل ہو سکتے ہیں ”

اور پھر وہ مقام آ ہی جاتا ہے جہاں یہ سائیں بورڈ آویزاں ہے جو آپکو آج کی اھلا” کویز کی تصویر میں نظر آرہا ہے جس میں حتمی طور سے اس بات کی نشاندھی کی گئی ہے کہ غیر مسلمین داہنے ہاتھہ کی جانب ” طائف ” کی جانب مڑ جائیں جسکو میں نے لال تیر سے واضح کیا ہے جبکہ مسلمین بائیں جانب ، مکّہ مکرمہ کی طرف مڑ سکتے ہیں جسکی نشاندھی میں نے نیلے تیر سے کی ہے – گویا یہ وہ نقطہ آخر ہے جہاں سے مسلمانوں اور غیر مسلیمین کی راہیں جدا ہونا لازمی ہیں –

ہم سب جانتے ہیں کہ مکّہ کی طاہر فضاؤں میں صرف کلمہ گو اہل ایمان ہی داخل ہو سکتے ہیں کسی نجس کا اس پاک شہر میں داخلہ شرعا ” ممنوع ہے اور اس وجہ سے مکّہ مکرمہ کے اطراف میں موجود تمام ایکسپریس ویز پر ایسے انتباہی بورڈ آویزاں ہیں –

غیر مسلموں پر رسول الله صلی الله علیہ و الیہ وسلم نے سن 9 ہجری میں یہ پابندی لگائی تھی جو آج تک الحمد الله برقرار ہے – کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و الیہ وسلم نے یہ پابندی کیوں لگائی تھی ؟ آخر اس پابندی کو لگانے کی وجہ کیا تھی ؟ ( ریفرنس کے ساتھہ جواب دیں پلیز )

جواب
==============

سن 8 ہجری میں فتح کے بعد جب پورے مکّہ مکرمہ میں مسلمانوں کا مکمل غلبہ ہوگیا تو سن 9 ہجری میں الله سبحان و تعالی نے خاص آیت نازل فرمائیں جس میں حکم دیا گیا کہ نجس مشرکین کو مسجد الحرام کے پاس پھٹکنے نہ دو – یہ آیت قرآن حکیم کی سوره توبہ کی آیت نمبر 28 ہے جو پارہ نمبر 10 میں ہے ، جس کا اردو ترجمہ کچھہ یوں ہے :-

” اے ایمان والو، مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں – وہ اس سال کے بعد مسجد الحرام کے پاس بھی بھٹکنے نہ پاین – اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہو تو الله تمہیں دولت مند کردے گا – اپنے فضل سے اگر چاہے ، الله علم و حکمت والا ہے ”

قران پاک میں الله سبحان و تعالی کے ان واضح احکامات کے بعد رسول الله صلی الله علیہ و آلیہ وسلم نے مشرکوں اور کفّار پر مسجد الحرام یعنی مکّہ مکرمہ کی حدود میں داخلے پر پابندی لگادی جو الحمد الله 1400 سال سے زاید عرصۂ گزرجانے کے باوجود اب تک الله کی مدد اور رحمت سے قایم و دائم ہے اور
انشا الله قیامت تک برقرار رہے گی –

مدینہ المنورہ بھی کیونکہ رسول الله صلی الله علیہ و آلیہ وسلم کا حرم ہے اور آپ صلی الله علیہ و آلیہ وسلم مجسم وہاں موجود ہیں تو اسکی عظمت ، پاکدامنی اور حرمت کا تقاضہ ہے کہ وہاں کی طاہر فضاؤں میں بھی نجس لوگ داخل نہ ہوں – اسلئے مدینہ منورہ میں بھی یہ پابندی لگائی گئی ہے –

سورة التوبة◄ ١٩١ ►

[9:28] سورۃ التوبہ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا ۚ وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ إِن شَاءَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اے ایمان لانے والو، مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں ا پنے فضل سے غنی کر دے، اللہ علیم و حکیم ہے۔
 

Enhanced by Zemanta

Previous Older Entries

%d bloggers like this: