موبائل فون کے استعمال میں احتیاط کیجئے

آج کے دور میں موبائل فون ہر شخص کی ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہی میں نہیں ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں بھی یہ عام لوگوں کی پہنچ میں آ گیا ہے۔ ہر چلتے پھرتے شخص کے پاس موبائل فون ہے اور وہ کسی نہ کسی سے بات کرتا نظر آتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ اس کے استعمال کے متعلق کچھ بنیادی عملی، اخلاقی اور تکنیکی باتوں کے بارے میں گفتگو کر لی جائے۔ یاد رہے کہ موبائل فون ایک سہولت ہے، اس لیے اس کا استعمال سہولت کے طور پر کیا جائے۔ بلاوجہ محض وقت اور پیسے کو ضائع نہ کیا جائے یعنی ضرورت کے وقت ہی فون کیا جائے اور صرف بات کر کے فون بند کر دیا جائے۔

بعض مقامات پر موبائل فون کا استعمال غیر اخلاقی اور بعض صورتوں میں غیر قانونی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ مثال کے طور پر مکتب اور تعلیمی ادارے میں دوران تعلیم اس کا استعمال کسی طور پر بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح موٹر سائیکل یا گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون کرنا یا سننا اپنے اور دوسرے کے لیے خطرناک ہے۔ اسی لیے قانونی طور پر اس پر پابندی ہے۔ کسی مجلس یا محفل میں بیٹھے ہوئے موبائل فون استعمال کرنا بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا تاہم ایسے کسی موقع پر کوئی ضروری بات کرنی یا سننی پڑ جائے تو مناسب ہے کہ خاموشی سے ایسے مقام سے ذرا دور ہٹ کر فون کا استعمال کر لیا جائے۔

غلطی سے کوئی نامعلوم کال آ جائے تو مناسب الفاظ میں اس سے معذرت کر لی جائے۔ اسی طرح اگر آپ سے غلط نمبر مل جائے تو بھی معذرت کرنی ضروری ہوتی ہے۔ اگر آپ کا مطلوبہ نمبر متعلقہ شخص کی بجائے گھر کے کسی دوسرے فرد نے اٹھا لیا تو اسے اپنا مختصر تعارف اور پیغام ضرور بتا دیں تا کہ متعلقہ شخص کسی پریشانی کا شکار نہ ہو۔ مسجد میں نماز پڑھتے وقت موبائل فون بند رکھنا چاہیے تا کہ عبادت میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ کوشش کریں کہ آپ کے موبائل کی اطلاعی گھنٹی کسی کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنے۔ اس لیے اس کی آواز کم اور انداز سادہ ہو تو بہتر ہے۔

بعض لوگ اپنے سیٹ میں گھنٹی کی بجائے اسے تھرتھراہٹ پر یا ہلکی سی بیپ کے بعد تھرتھراہٹ پر بھی لگا دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں آپ کو آنے والے فون سے کسی کو زیادہ زحمت نہیں ہوتی یا قریبی افراد کو بری نہیں لگتی۔ یہ ایک اچھی صورت ہے۔ آج موبائل فون کے بہت سے استعمال سامنے آ گئے ہیں یعنی موبائل فون میں گھڑی، ریڈیو، ٹی وی، کیمرہ، سٹاپ واچ، فون ڈائری، کیلنڈر، انٹرنیٹ، گیمز، لغت اور معلومات کے علاوہ تفریح کے بہت سے نئے انداز بھی آ گئے ہیں۔ نیز اپنی اپنی پسند اور ذوق کے مطابق اطلاعی گھنٹی کے انداز اور ریکارڈنگ بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ ان تمام سہولتوں اور آسائشوں کے ساتھ ساتھ موبائل فون کا سائز بھی سکڑ رہا ہے۔ موبائل چاہے جتنا جدید ہو، اس کا بنیادی استعمال کہیں سے آنے والی فون کال کو سننا اور کسی کو فون کرنا ہے۔

موبائل فون ایک ایسی مفید و کارآمد ایجاد ہے جسے روز بروز مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ امیر تو ایک طرف رہے، متوسط اور کم حیثیت لوگ بھی اسے ایک اہم ضرورت سمجھتے ہیں۔ مغربی ممالک میں تو کافی عرصے سے موبائل کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ اس سے منسلک سہولیات و خدمات دن بدن ترقی کر رہی ہیں۔  دینی اور مذہبی ذوق رکھنے والے حضرات اپنے موبائلز پر تلاوت سن سکتے ہیں، احادیث اور تفسیر پڑھ سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا تک اب کمپیوٹر کی بجائے موبائل فون پر رسائی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ موبائل فون قومی اتحاد کو بڑھانے، مختلف علاقوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور انہیں مشترکہ قومی مقاصد سے وابستہ کرنے میں بے پناہ مدد گار ہو سکتا ہے۔

علاوہ ازیں موبائل کے ذریعے سے مختلف ممالک کے لوگوں میں روز بروز ذہنی قربت اور اکٹھے ہونے کا احساس بڑھ رہا ہے۔ اس سے بین الاقوامی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ کاروباری معاملات کے لیے اس کا استعمال بہت مفید ثابت ہوا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ موبائل فون ایک مفید اور کارآمد ایجاد ہے۔ یہ بذات خود برا نہیں، اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی اصلاح کی جائے۔ اسے اچھے کاموں اور اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ لوگ صحیح معنوں میں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

جمیل احمد

Advertisements

انگلش میں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیسے لکھیں ؟

خاتم الانبیاء، فخر دوعالم، سرور کونین حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ تعالی نے خوبیوں اور کمالات کا پیکر بنا کر دنیا میں بھیجا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات سے جو کوئی شے منسوب ہو گئی اس کی عظمتوں کو بلندی نے آلیا، اس کا مقام و مرتبہ بڑھ گیا، آپ ﷺ کے اسم مبارک کی برکتیں بے شمار ہیں۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام بہت اونچا، اعلیٰ اور ارفع ہے، ہم اپنی زبان کی آلودگیوں، بے اعتدالیوں سے خوب واقف ہیں اسی لئے سیکڑوں مرتبہ منہ کو مشک وعنبر وگلاب سے دھویا جائے اور پھر آپ ﷺ کا نامِ مبارک لیا جائے تب بھی یہ ڈر اور خوف ہوتا ہے کہ کہیں نام لینے میں بے ادبی کا احتمال نہ ہوجائے اسی لئے زبان پر نامِ محمد کے ساتھ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آنا لازمی اور ذمہ داری والی بات ہے۔

یہاں موضوع نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسم کی صفات بیان کرنا نہیں اور نہ ہی ان صفات کو چند صفحات میں بیان کیا جا سکتا ہے بلکہ یہاں صرف یہ آگاہ کرنا مقصود ہے کہ انگلش کمپوزنگ میں ﷺ کس طرح لکھا جائے ۔  انگلش کمپوزنگ میں زیادہ تر افراد Muhammad PBUH لکھتے ہیں اور یہ خاصی حد تک درست بھی ہے تاہم بعض چیزوں کا متبادل کسی طور بھی اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتا اسی طرح ﷺ کا کوئی لفظ یا الفاظ اسکا متبادل یا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ بیشتر افراد بھی Muhammad PBUH استعمال کرتے ہیں ایسے افراد کی معلومات کیلئے گزارش ہے کہ ایم ایس ورڈ میں ایک Syntax استعمال کر کے ﷺ لکھا جا سکتا ہے۔ پہلے Muhammad لکھیں پھر FDFA ٹائپ کر کے Alt+X+F پریس کریں تو ﷺ باآسانی ٹائپ ہو جائے گا۔

چار ہزار سے زائد احادیث رسول اللہ ﷺ کا نچوڑ صرف 4 احادیث

چار ہزار سے زائد احادیث رسول اللہ ﷺ کا نچوڑ صرف 4 احادیث.

 

قلب کو زندہ رکھنے کا نسخہ

حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی کا مفہوم ہے: ’’ جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے کہ ذکر کرنے والا زندہ اور ذکر نہ کرنے والا مردہ ہے۔‘‘ زندگی ہر شخص کو محبوب ہے اور مرنے سے ہر شخص ہی گھبراتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ جو اللہ کا ذکر نہیں کرتا وہ زندہ بھی مردے ہی کے حکم میں ہے، اس کی زندگی بھی بے کار ہے۔ بعض علمائے کرام نے اس کی تشریح یہ کی ہے کہ یہ دل کے حال کا بیان ہے کہ جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اس کا دل زندہ رہتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا اس کا دل مر جاتا ہے۔

حضور اکرم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے: ’’ جنّت میں جانے کے بعد اہل جنّت کو دنیا کی کسی چیز کا بھی قلق و افسوس نہیں ہو گا۔ بہ جز اس گھڑ ی کے جو دنیا میں اللہ کے ذکر کے بغیر گزر گئی ہو۔‘‘ جنّت میں جانے کے بعد جب یہ منظر سامنے ہو گا کہ ایک مرتبہ اس پاک نام کو لینے کا اجر و ثواب کتنا زیادہ ہے کہ پہاڑوں کے برابر اجر مل رہا ہے تو اس وقت اس اپنی کمائی کے نقصان پر جس قدر افسوس ہو گا وہ ظاہر ہے۔ ایسے خوش نصیب بندے بھی ہیں جن کو یہ دنیا بھی بغیر ذکر اللہ کے اچھی نہیں لگتی اور وہ اپنی زندگی کو ذکر الہی سے منور رکھتے ہیں۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ یحییٰ بن معاذ رازی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مناجات میں فرمایا کرتے تھے : ’’ یااللہ! رات اچھی نہیں لگتی مگر تجھ سے راز و نیاز کے ساتھ، اور دن اچھا معلوم نہیں ہوتا مگر تیری عبادت کے ساتھ، اور دنیا اچھی نہیں معلوم ہوتی مگر تیرے ذکر کے ساتھ، اور آخرت بھلی نہیں مگر تیری معافی کے ساتھ اور جنّت میں لطف نہیں مگر تیرے دیدار کے ساتھ۔‘‘.
غرض یہ کہ زیر نظر حدیث سے وقت کی اہمیت مفہوم ہوئی اور اللہ والوں کی سیرت و عمل سے وقت کی قدر کرنے کا سبق ملا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کے ذکر کے لیے مجتمع ہوں اور ان کا مقصود صرف اللہ ہی کی رضا ہو، تو آسمان سے ایک فرشتہ ندا کرتا ہے کہ تم لوگ بخش دیے گئے اور تمہاری برائیاں نیکیوں سے بدل دی گئیں۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس مجلس میں اللہ کا ذکر نہ ہو، حضور اکرم ﷺ پر درود نہ ہو، اس مجلس والے ایسے ہیں جیسے مردہ گدھے پر سے اٹھے ہوں۔
ایک حدیث میں ہے کہ مجلسوں کا حق ادا کیا کرو! اور وہ یہ ہے کہ اللہ کا ذکر ان میں کثرت سے کرو، مسافروں کو ( بہ وقت ضرورت) راستہ بتاؤ، اور ناجائز چیز سامنے آجائے تو آنکھیں بند کر لو (یا نیچی کر لو کہ اس پر نگاہ نہ پڑے )
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، مفہوم : کیا میں تمہیں ایسے بہترین اعمال نہ بتا دوں جو رب کے نزدیک بہت ستھرے اور تمہارے درجات بہت بلند کرنے والے، اور تمہارے لیے سونا اور چاندی خیرات کرنے سے بہتر ہوں اور تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہوں کہ تم دشمن سے جہاد کرو اور تم ان کی گردنیں مارو اور تمہیں شہید کریں ؟ صحابہؓ نے عرض کیا جی ضرور ارشاد فرمائیے! تو آپؐ نے فرمایا: وہ عمل اللہ کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کثرت سے اپنا ذکر اور رسول اکرم ﷺ پر درود شریف بھیجنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 آمین
علامہ محمد تبسّم بشیر اویسی

خانہ کعبہ کے اوپر سے پرواز کرنا کسی صورت ممکن نہیں

خانہ کعبہ کے اوپر سے پرواز کرنا کسی صورت ممکن نہیں، خانہ کعبہ زمین کے مرکز میں واقع ہے، زمین کی کشش ثقل زیادہ ہونے سے تمام اشیاء اس کے اطراف میں پھیل جاتی ہیں، یہاں شدید مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے، پرندے بھی دائیں بائیں پرواز کرتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جدید سائنس کے تحت کی جانے والی تمام پیمائشوں اور پیمانوں کے مطابق خانہ کعبہ بلا شک و شبہ زمین کا مرکز ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو زمین کے بالکل بیچ میں واقع ہے۔ زمین کے درمیان کا مقام ہونے کی وجہ سے قدرتی طور پر زمین کی تمام کشش ثقل کا مرکز بھی یہی مقام ہے اور یہی وہ خاصیت ہے جو اسے دوسرے مقامات سے منفرد بناتی ہے۔ زمین کی کشش ثقل کا مرکز ہونے کی وجہ سے یہاں شدید مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی چیز کا پرواز کرنا نا ممکن ہے۔ اگر آپ اپنے ہاتھ میں مقناطیس کا ٹکڑا لیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے بالکل درمیان میں کوئی چیز نہیں چپک سکتی، مقناطیسی کشش کے اثر سے وہ شے ہوا میں جھولتی ہوئی مقناطیس کے دائیں یا بائیں طرف چپک جائے گی۔

چین میں دو کروڑ مسلمان، عبادت کیلئے 35 ہزار مساجد

چین میں مسلمانوں کی کل آبادی2009 کی مردم شماری کے مطابق دو کروڑ سولہ لاکھ ، سڑسٹھ ہزار ہے ان مسلمانوں کیلئے پورے چین میں کل 35 ہزار مساجد ہیں۔
اسٹیٹ کونسل چائنا کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق چینی مسلمانوں کی عبادت کیلئے 35 ہزار مساجد قائم ہیں جبکہ 57 ہزار علمائے کرام مسلمانوں کی راہنمائی کیلئے موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین میں مجموعی طور پر20 کروڑ مذہبی افراد رہائش پذیر ہیں ان میں 3 لاکھ 80 ہزار مذہبی رہنما بھی شامل ہیں۔ چین کے بڑے مذاہب میں بدھ مت، تائوازم، اسلام، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ازم شامل ہیں،ان مذاہب کو حکومت کی جانب سے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق 2 لاکھ 22 ہزار بودی مذہبی اہلکار اور 40 ہزار سے زائد تائوسٹ کلائیکل اہلکار خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ چین کی دس اہم اقلیتوں میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے جبکہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ازم کی آبادی بالترتیب 6 ملین اور 38 ملین ہے۔ چین میں مجموعی طور پر 5 ہزار 5 سو مذہبی گروپس موجود ہیں جن میں بدھ مت، چین اسلامک ایسوسی ایشن، کیتھولک،بشپ، کانفرنس آف کیتھولک چرچز اور چائینا کرسچن کونسل شامل ہیں۔ چین میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 44 ہزار مذہبی عبادت گاہیں رجسٹرڈ ہیں جن میں مسلمانوں کیلئے 35 ہزار مساجد اور بدھ مت مذہب کے ماننے والوں کے لئے 33 ہزار 5 سو بدھا ٹیمپل شامل ہیں۔

 

تین ماہ میں قرآن پاک حفظ کرنے والا مصر کا نابینا بچہ

مصر کے کمسن نابینا بچے عبداللہ عمار محمد السید نے صرف 3 ماہ میں قرآن پاک حفظ کیا۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر میں کمسن نابینا بچےعبداللہ عمار السید نے صرف 3 ماہ میں ناصرف قرآنِ پاک حفظ کیا بلکہ قرآن کا انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں ترجمہ بھی یاد کر رکھا ہے۔ عبداللہ شمالی گورنری کے الرمل شہر میں تل الجراد کا رہائشی اور جامعہ الازھر کے ایک اسکول میں زیرِ تعلیم ہے۔ مصر کی وزارتِ اوقاف اور مذہبی امور کی جانب سے نابینا حافظ کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں حافظ عبداللہ نے تلاوت کے بعد اس کا انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں ترجمہ کر کے تقریب کے حاضرین اورعالمِ اسلام کو حیران کر دیا۔

مصر کے وزیرِ اوقاف ڈاکٹر محمد مختار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے نابینا کمسن بچے کا ذاتی طور پر ٹیسٹ لیا تو انکشاف ہوا کہ اس نے بغیر غلطی کے قرآن کی آیات اور صفحات کے نمبر بھی یاد کر رکھے ہیں۔ نابینا حافظ کے والد عمار محمد السید نے بتایا ہے کہ ان کے بچے نے 8 سال کی عمر میں صرف تین ماہ کے عرصے میں پورا قرآن کریم مکمل حفظ کر لیا تھا۔ حفظ کے بعد بچے نے قرآۃ عشرہ میں مہارت حاصل کی اور بعد میں انگریزی اور فرانسیسی زبانوں پر عبور حاصل کیا جب کہ عبداللہ السید نے زمانہ جاہلیت، امور دور اور جدید دور کے ہزاروں عربی قصائد بھی یاد کر رکھے ہیں۔ بچے کے والد کے مطابق جامعہ الازھر کے سربراہ الشیخ احمد الطیب نے بچے کو شعر و ادب اور دیگر علم وفنون سکھانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے بچے کے تمام تعلیمی اخراجات پی ایچ ڈی تک سرکاری سطح پر ادا کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

جنازہ : ایک نصیحت

حضرت شر جیلؓ کہتے ہیں ، حضرت ابو الدرداء ؓ جب کوئی جنازہ دیکھتے تو کہتے، تم صبح کو جا رہے ہو ، شام کو ہم بھی تمہارے پاس آ جائیں گے ، یا تم شام کو جا رہے ہو صبح کو ہم بھی آ جائیں گے ۔ جنازہ ایک زبرد ست اور مؤثر نصیحت ہے لیکن لوگ کتنی جلدی غافل ہو جاتے ہیں ، نصیحت حاصل کرنے کے لیے موت کافی ہے۔ ایک ایک کر کے لوگ جا رہے ہیں اور آخر میں ایسے لوگ رہتے جارہے ہیں جنہیں کچھ سمجھ نہیں ہے ۔ ( جنا زہ دیکھ کر پھر اپنے دنیوی کاموں میں لگے رہتے ہیں ) حضرت ابو الدرداء ؓ نے فرمایا ، تم لو گوں کو ان چیزوں کا مکلف نہ بناؤ جن کے وہ ( اللہ کی طرف سے ) مکلف نہیں ہیں ، لو گوں کا رب تو ان کا محاسبہ نہ کرے اور تم ان کا محاسبہ کرو ، یہ ٹھیک نہیں ۔ اے ابن آدم ! تو اپنی فکر کر کیونکہ جو لوگوں میں نظر آنے والے عیوب تلاش کرے گا ، اس کا غم لمبا ہو گا اور اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو سکے گا ۔

امام کعبہ ڈاکٹر صالح بن محمد ابراہیم آل طالب

سرزمین حجاز سے دیگر مسلم دنیا کی طرح‘ پاکستان کا بھی دوستانہ‘ روحانی اور پیار کا رشتہ ہے۔ اس مقدس سرزمین میں ایسی کشش‘ ایسی محبت اور ایسی خوشبو موجود ہے جو ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دلوں کو اپنا اسیر بنائے ہوئے ہے۔ سعودی عرب سے وقتاً فوقتاً مختلف مذہبی شخصیات پاکستان کا دورہ کرتی ہیں جن سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا یہ رشتہ روز بروز مضبوط ہو رہا ہے۔ گذشتہ دنوں امام کعبہ شیخ صالح بن محمد ابراہیم آل طالب پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے نماز جمعہ کا خطبہ دیا اور کئی شہروں کی بڑی مساجد میں مختلف نمازیں پڑھائیں۔ اس کے علاوہ وہ صدر‘ وزیراعظم‘ آرمی چیف‘ وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر اہم سرکاری و نجی شخصیات سے بھی ملے۔

امام کعبہ نے جمعہ کی رات‘ نماز عشا کی امامت مرکزِ قرآن وسنہ لارنس روڈ میں پڑھائی اور اس کے بعد مختصر خطاب بھی کیا۔ خوش قسمتی سے مجھے بھی ان کی امامت میں نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ نماز عشا کا وقت آٹھ بجے تھا لیکن لوگ عصر کی نماز سے ہی مسجد کی طرف کھنچے چلے آ رہے تھے۔ وہ شیخ صالح بن آل طالب کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھے۔ ان کی قرأت اس قدر میچور‘ پُرسوز اور واضح تھی کہ دل چاہ رہا تھا کاش کبھی ان کے پیچھے تراویح پڑھنے کا موقع بھی ملے۔

ڈاکٹر صالح بن محمد آل طالب صرف چھیالس برس کے ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ صرف امام ہی نہیں بلکہ مکۃ المکرمہ کی ہائی کورٹ کے جج بھی ہیں۔ جہاں تک امامت کی بات ہے تو پاکستان کے برعکس سعودیہ میں امام بننے کے لئے کچھ اور ضروریات ہیں۔ پاکستان میں تو زیادہ تر مساجد میں باریش ہونا ہی امام مسجد کے لئے کافی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بیشتر مساجد کے خطیب اپنے فرائض اس طور سے ادا نہیں کر پا رہے جس کی ان سے ایک اسلامی معاشرے میں توقع کی جاتی ہے۔ شیخ صالح بن محمد ابراہیم آل طالب نے انتہائی کم عمری میں ہی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایک مدرسہ سے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی جبکہ اسی شہر سے ابتدائی اور ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرأت اور سبعہ عشرہ کے علوم میں بھی دسترس حاصل کی۔

امام کعبہ نے ریاض کے شریعہ کالج سے گریجوایشن کرنے کے بعد ہائر انسٹیٹیوٹ آف جسٹس سے ماسٹرز ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔ سعودی عرب میں ماسٹرز کا دورانیہ چار سال کا ہوتا ہے۔ امام کعبہ نے آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ سے بین الاقوامی دستور میں پی ایچ ڈی کی ڈگر ی حاصل کی۔ اس کے علاوہ وہ تقریباً دس ماہ تک برطانیہ صرف اس مقصد کے لئے مقیم رہے تاکہ انگریزی پر مکمل عبور پا سکیں۔ امام کعبہ نے انفرادی طور پر سعودی عرب میں تحفیظ القرآن کے درجنوں تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں جن کا انتظام و انصرام وہ خود کرتے ہیں، جبکہ دیارِ عرب سے باہر بھی سینکڑوں ادارے ایسے ہیں جن کی سرپرستی وہ کرتے ہیں۔

وہ گزشتہ پندرہ برس سے مسجد الحرام سے وابستہ ہیں اور ان کی خوش الحانی کروڑوں مسلمانوں کو ان کا گرویدہ بنا چکی ہے۔ وہ ایک مایہ ناز مصنف و ادیب بھی ہیں، اِنہوں نے اصلاح، تربیت، اجتہاد، تقلید اور نفاق کے موضوعات پر کئی معرکۃ الآراء کتابیں بھی تصنیف کیں جنہیں عرب و عجم میں بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان کی عربی زبان میں لکھی جانے والی ایک کتاب ”تہذیب و ثقافت کی اشاعت میں مسجد الحرام کا کردار‘‘ نے عالم عرب میں بے پناہ شہرت حاصل کی۔
مرکز قرآن و سنہ میں نماز عشا کے بعد شیخ صالح بن محمد آل طالب نے پندرہ منٹ خطاب کیا۔

ڈاکٹر صالح بن محمد ابراہیم آل طالب کو دیکھ کر اس خواہش نے زور پکڑا کہ کاش ہمارے ہاں بھی چھوٹی بڑی مساجد کے امام اعلیٰ تعلیم یافتہ اور حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنے والے ہوں۔ ہم نے دراصل دین اور دنیا کو الگ کر دیا ہے اور یہی ہمارے زوال کی بڑی وجہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں علما یا امام مسجد کا کام صرف نمازیں پڑھانا ہے اور انہیں دنیاوی تعلیم اور دنیا کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم نے انہیں نمازِ جنازہ پڑھانے‘ دم درود کرنے اور بچے کے کان میں اذان دینے تک محدود کر دیا ہے۔ اس میں حکومت‘ اداروں اور معاشرے کا بھی اتنا ہی قصور ہے۔ درحقیقت جب تک امام اور خطیب دین ا ور دنیا کو ساتھ لے کر نہیں چلتے‘ معاشرے میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

تبدیلی تبھی آئے گی جب مسجدوں اور منبروں کی ذمہ داری روایتی اماموں کی جگہ دینی اور دنیا وی علوم کے ماہر‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد سنبھالیں گے۔ کاش ڈاکٹر صالح بن محمد آل طالب کی طرح ہمارے ہاں بھی حفظِ قرآن‘ پُرسوز قرأت‘ ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور کتاب و سنت کے علوم پر دسترس رکھنے والے نوجوان اس میدان میں قدم رکھیں‘ پھر دیکھیں منبر ومحراب سے اٹھنے والی صدائیں کیسے دلوں کو منور اور مسخر کرتی ہیں‘ پھر دیکھیں یہاں اسلام اپنی اصل روح اور اصل شکل میں کیسے نافذ ہوتا ہے.

عمار چوہدری
بشکریہ روزنامہ دنیا