Saudi Arabia completes renovation of Zamzam well

Saudi Arabia marked the completion of a rehabilitation project for Makkah’s holy Zamzam well in a ceremony Tuesday. Prince Khalid Al Faisal Bin Abdulaziz, the advisor to the Custodian of the Two Holy Mosques and governor of Makkah region, participated in the opening ceremony for the completion of the renovation project for the well and surrounding area in Makkah’s Grand Mosque, also known as Masjid al-Haram, the official SPA news agency reported. The Directorate General of Works of Masjid al-Haram and Masjid an-Nabawi said in a written statement that barriers which had been put around the Kaaba for the rehabilitation work were removed. There are 21 meters between the Zamzam well and the Kaaba. The Kaaba, located in Masjid al-Haram, is the holiest site for Muslims which they face during prayers.
Advertisements

امام کعبہ ڈاکٹر صالح بن محمد ابراہیم آل طالب

سرزمین حجاز سے دیگر مسلم دنیا کی طرح‘ پاکستان کا بھی دوستانہ‘ روحانی اور پیار کا رشتہ ہے۔ اس مقدس سرزمین میں ایسی کشش‘ ایسی محبت اور ایسی خوشبو موجود ہے جو ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دلوں کو اپنا اسیر بنائے ہوئے ہے۔ سعودی عرب سے وقتاً فوقتاً مختلف مذہبی شخصیات پاکستان کا دورہ کرتی ہیں جن سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا یہ رشتہ روز بروز مضبوط ہو رہا ہے۔ گذشتہ دنوں امام کعبہ شیخ صالح بن محمد ابراہیم آل طالب پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے نماز جمعہ کا خطبہ دیا اور کئی شہروں کی بڑی مساجد میں مختلف نمازیں پڑھائیں۔ اس کے علاوہ وہ صدر‘ وزیراعظم‘ آرمی چیف‘ وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر اہم سرکاری و نجی شخصیات سے بھی ملے۔

امام کعبہ نے جمعہ کی رات‘ نماز عشا کی امامت مرکزِ قرآن وسنہ لارنس روڈ میں پڑھائی اور اس کے بعد مختصر خطاب بھی کیا۔ خوش قسمتی سے مجھے بھی ان کی امامت میں نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ نماز عشا کا وقت آٹھ بجے تھا لیکن لوگ عصر کی نماز سے ہی مسجد کی طرف کھنچے چلے آ رہے تھے۔ وہ شیخ صالح بن آل طالب کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھے۔ ان کی قرأت اس قدر میچور‘ پُرسوز اور واضح تھی کہ دل چاہ رہا تھا کاش کبھی ان کے پیچھے تراویح پڑھنے کا موقع بھی ملے۔

ڈاکٹر صالح بن محمد آل طالب صرف چھیالس برس کے ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ صرف امام ہی نہیں بلکہ مکۃ المکرمہ کی ہائی کورٹ کے جج بھی ہیں۔ جہاں تک امامت کی بات ہے تو پاکستان کے برعکس سعودیہ میں امام بننے کے لئے کچھ اور ضروریات ہیں۔ پاکستان میں تو زیادہ تر مساجد میں باریش ہونا ہی امام مسجد کے لئے کافی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بیشتر مساجد کے خطیب اپنے فرائض اس طور سے ادا نہیں کر پا رہے جس کی ان سے ایک اسلامی معاشرے میں توقع کی جاتی ہے۔ شیخ صالح بن محمد ابراہیم آل طالب نے انتہائی کم عمری میں ہی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایک مدرسہ سے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی جبکہ اسی شہر سے ابتدائی اور ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرأت اور سبعہ عشرہ کے علوم میں بھی دسترس حاصل کی۔

امام کعبہ نے ریاض کے شریعہ کالج سے گریجوایشن کرنے کے بعد ہائر انسٹیٹیوٹ آف جسٹس سے ماسٹرز ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔ سعودی عرب میں ماسٹرز کا دورانیہ چار سال کا ہوتا ہے۔ امام کعبہ نے آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ سے بین الاقوامی دستور میں پی ایچ ڈی کی ڈگر ی حاصل کی۔ اس کے علاوہ وہ تقریباً دس ماہ تک برطانیہ صرف اس مقصد کے لئے مقیم رہے تاکہ انگریزی پر مکمل عبور پا سکیں۔ امام کعبہ نے انفرادی طور پر سعودی عرب میں تحفیظ القرآن کے درجنوں تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں جن کا انتظام و انصرام وہ خود کرتے ہیں، جبکہ دیارِ عرب سے باہر بھی سینکڑوں ادارے ایسے ہیں جن کی سرپرستی وہ کرتے ہیں۔

وہ گزشتہ پندرہ برس سے مسجد الحرام سے وابستہ ہیں اور ان کی خوش الحانی کروڑوں مسلمانوں کو ان کا گرویدہ بنا چکی ہے۔ وہ ایک مایہ ناز مصنف و ادیب بھی ہیں، اِنہوں نے اصلاح، تربیت، اجتہاد، تقلید اور نفاق کے موضوعات پر کئی معرکۃ الآراء کتابیں بھی تصنیف کیں جنہیں عرب و عجم میں بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان کی عربی زبان میں لکھی جانے والی ایک کتاب ”تہذیب و ثقافت کی اشاعت میں مسجد الحرام کا کردار‘‘ نے عالم عرب میں بے پناہ شہرت حاصل کی۔
مرکز قرآن و سنہ میں نماز عشا کے بعد شیخ صالح بن محمد آل طالب نے پندرہ منٹ خطاب کیا۔

ڈاکٹر صالح بن محمد ابراہیم آل طالب کو دیکھ کر اس خواہش نے زور پکڑا کہ کاش ہمارے ہاں بھی چھوٹی بڑی مساجد کے امام اعلیٰ تعلیم یافتہ اور حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنے والے ہوں۔ ہم نے دراصل دین اور دنیا کو الگ کر دیا ہے اور یہی ہمارے زوال کی بڑی وجہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں علما یا امام مسجد کا کام صرف نمازیں پڑھانا ہے اور انہیں دنیاوی تعلیم اور دنیا کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم نے انہیں نمازِ جنازہ پڑھانے‘ دم درود کرنے اور بچے کے کان میں اذان دینے تک محدود کر دیا ہے۔ اس میں حکومت‘ اداروں اور معاشرے کا بھی اتنا ہی قصور ہے۔ درحقیقت جب تک امام اور خطیب دین ا ور دنیا کو ساتھ لے کر نہیں چلتے‘ معاشرے میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

تبدیلی تبھی آئے گی جب مسجدوں اور منبروں کی ذمہ داری روایتی اماموں کی جگہ دینی اور دنیا وی علوم کے ماہر‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد سنبھالیں گے۔ کاش ڈاکٹر صالح بن محمد آل طالب کی طرح ہمارے ہاں بھی حفظِ قرآن‘ پُرسوز قرأت‘ ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور کتاب و سنت کے علوم پر دسترس رکھنے والے نوجوان اس میدان میں قدم رکھیں‘ پھر دیکھیں منبر ومحراب سے اٹھنے والی صدائیں کیسے دلوں کو منور اور مسخر کرتی ہیں‘ پھر دیکھیں یہاں اسلام اپنی اصل روح اور اصل شکل میں کیسے نافذ ہوتا ہے.

عمار چوہدری
بشکریہ روزنامہ دنیا

 

‘Love a Muslim Day’ list in response to Punish a Muslim Day

The man who created a ‘Love a Muslim Day’ list in response to letters promoting hateful acts hopes his idea will “bring people together”. It was sparked by reports that ‘Punish a Muslim Day’ letters had been sent out in several cities, calling on people to verbally and physically attack Muslims. Four MPs from South Asian backgrounds have also received packages containing anti-Muslim letters in recent days. The response, listing acts of kindness, has been widely shared on social media. More on this story and others in West Yorkshire
Shahab Adris, from Leeds, said he was disgusted at the content of the widely-reported letter and had a “brainwave” on Saturday. “I thought, let’s turn this letter on its head, keep the points system and turn it into something lovely,” he said. “Some of the responses I’ve seen from the Muslim community have been really positive, but the most remarkable thing has been getting responses from people who are not Muslim, saying they will do something with a Muslim colleague.”

’’پنش اے مسلم ڈے‘‘ اور انسانی حقوق کے علمبردار

گزشتہ روز گوگل پر سرچنگ کے دوران ایک انگریزی رپورٹ پر نظر پڑی جس کو دیکھ کر میں کچھ دیر کے لیے ساکن ہو گیا۔ ہونا بھی تھا، کیوں کہ وہ خبر ہی ایسی تھی۔ انگلش میں کچھ یوں لکھا ہوا تھا، (panish a muslim day, 3rd april 2018) یعنی جس طرح ماؤں کا عالمی دن، ( مدرز ڈے) مزدوروں کا عالمی دن (لیبر ڈے) یا خواتین کا دن ( ویمن ڈے) منایا جاتا ہے، اسی طرح برطانیہ میں مسلمانوں کو سزا دینے کا دن ( پنش اے مسلم ڈے) تین اپریل کو منایا جائے گا۔
برطانیہ کے مختلف شہروں میں نامعلوم افراد نے کئی گھروں، دفاتر اور دکانوں میں ایک خط پھینکا جس میں عیسائیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تین اپریل کو مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام کا حصہ بنیں۔ خط میں ہر قسم کے نفرت انگیز جرائم کے ارتکاب، نسل پرستی اور تعصب و نفرت پر پوائنٹس دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

خط کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے:
3 اپریل کو مسلمانوں کو سزا دینے کا دن منانے کا اعلان۔
مسلمان کو گالی دینے پر 10 پوائنٹس، مسلمان خاتون پر ہاتھ اٹھانے یا نقاب نوچنے پر 25 پوائنٹس، چہرے پر تیزاب پھینکنے پر 50 پوائنٹس، کسی مسلمان کو مارنے یا شدید زخمی کرنے کے 100 یا 500 پوائنٹس، مسجد جلانے یا بم پھینکنے پر 1000 پوائنٹس۔ ان سے بڑھ کر تین اپریل والے دن خانہ کعبہ کو (نعوذباللہ) نقصان پہنچانے پر 2500 پوائنٹس دیے جائیں گے۔ کون حاصل کر سکتا ہے یہ پوائنٹس؟؟؟

آخر میں مزید معلومات اور رابطہ کرنے کرنے کے لیے ایڈریس اور بھیجنے والے ادارے کا نام بھی درج کیا گیا ہے۔ وہ ایڈرس یہ ہے۔ HM Courts & Tribunals Service, GOV.UK 102 patty france landan
پنش اے مسلم ڈے کے لیٹرز کو دیکھ کر برطانیہ میں موجود مسلم کمیونٹی میں شدید خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ برطانیہ میں مقیم بہت سے مسلمانوں نے مختلف پولیس اسٹیشنز میں رپورٹ بھی درج کرائی مگر وہاں کی پولیس کارروائی کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لے رہی۔ ایک طرف مسلمانوں میں خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے، تو دوسری طرف انسانی حقوق کے علمبردار، چاہے وہ مغربی ہوں یا مشرقی، سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

خدا نخواستہ اگر اس قسم کا کوئی پیغام کسی اسلامی ملک میں یا کسی مسلمان انتہا پسند گروپ کی جانب سے ہوتا تو کیا انسانی حقوق کے علمبردار یوں ہی خاموش رہتے؟ کیا مغربی ممالک کے لوگ یوں ہی اپنے لبوں کو سیے تماشہ دیکھ رہے ہوتے؟ خونِ مسلم کی ارزانی کا انعامی کوپن کوئی پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا، اس سے قبل بھی اس طرح ہوتا رہا ہے۔ برما میں مسلمان مردوں کو ایک درخت کے ساتھ باندھ کر نشانہ بازی کی مشقیں کی جاتی ہیں، کہ آنکھ پر گولی مارنے پر یہ انعام، ناک پر فلاں انعام (اللہ اکبر)، مگر اب کی بار یہ کھل کر سامنے آئے ہیں۔

ہم لوگ خبروں، نیٹ اور اخبارات میں روزانہ یہ دیکھتے ہیں کہ آج جرمنی میں مسجد کو شہید کیا گیا، آج فرانس میں ایک مسلمان لڑکی کو چاقوؤں کے وار سے شہید کر دیا گیا، وجہ اسکارف اوڑھنا تھا۔ کبھی آسٹریا میں مسلمان خواتین پر حجاب کی پابندی، تو کبھی کسی ملک میں نماز و اذان پر پابندی، حتیٰ کہ مسلمانوں پر یورپین زمین تنگ کرنے کےلیے تمام حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، موجودہ مسلم پنش ڈے بھی اسی کا تسلسل لگ رہا ہے۔

مگر افسوس صد افسوس، کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں موجود نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار ایسے واقعات پر خاموش تھے اور ہیں۔ اگر پاکستان یا کسی بھی اسلامی ملک میں اس قسم کا کوئی واقعہ ہو جائے یا کسی تنظیم کی جانب سے ایسا کوئی خط جاری ہو جائے، مثلاً حال ہی میں پاکستان کے علاقے مردان کی حجام برادری کی نمائندہ تنظیم نے داڑھی کی ڈیزائن پر پابندی عائد کی ہے، جس پر نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ مگر مسلم اے پنش ڈے والے معاملے میں ان کی خاموشی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہ انسانیت کے نہیں، صرف اور صرف مغربیت کے ہمنوا ہیں۔

اس کے ثبوت کے طور پر انگلش فٹبالر رونالڈو کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔ کچھ روز قبل یورپین فٹبال اسٹار کھلاڑی رونالڈو نے پیپسی کمپنی کے کروڑوں روپے کے اشتہار میں کام کرنے سے انکار کیا تھا، وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ میں ایسی کمپنی کی تشہیری مہم کا حصہ ہر گز نہیں بن سکتا جو کمپنی اسرائیلی فوج کو بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کے لیے امداد فراہم کرتی ہو۔ (فٹبالر نے کچھ مزید باتیں بھی کیں) لیکن اگر یہی بات پاکستان کا کوئی مولوی یا دینی رجحان رکھنے والا شخص کہے تو یہی موم بتی مافیا جو حقوق انسانیت کے علمبردار بنے ہوئے ہیں، اس مولوی یا مذہبی نظریہ رکھنے والے شخص کو تنگ اور انتہاپسند کہیں گے۔ مگر ان میں سے کسی نے بھی رونالڈو کے بیان پر ردِعمل ظاہر نہیں کیا ’’کیونکہ رونالڈو ایک یورپین و مغربی شخص ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نصیب کرے۔ آمین

عنایت کابلگرامی

دور نبوی ﷺ کے سات کنوؤں میں سے ایک بئر رومہ 1400 سال بعد بھی جاری

مدینہ منورہ کی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سائنسی محقق عبداللہ محمد کابر نے بتایا ہے کہ دور نبوی ﷺ کے سات کنوؤں میں سے بئر رومہ 1400 سال  بعد بھی لوگوں کی پیاس بجھا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مدینہ منورہ کو کنوؤں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، سیرت مطہرہ کے مطالعے کے دوران مدینہ منورہ میں دور نبوت میں کئی کنوؤں کا تذکرہ ملتا ہے، ان میں ایک کنواں خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے خرید کر فی سبیل اللہ وقف کر دیا تھا، کتب سیر میں اس کنویں کا نام بئر رومہ ملتا ہے۔

حضرت عثمان کا یہ صدقہ جاری 1400 سو سال سے پیاسوں کی پیاس بجھاتا چلا آ رہا ہے۔ بئر رومہ مسجد نبوی سے کچھ  فاصلے پر کھجوروں کے ایک باغ کے درمیان واقع ہے، اس باغ میں مختلف انواع کی کھجوروں کے درخت ہیں، ان میں سب سے اہم عجوہ کھجور ہے۔ اس کے علاوہ وہاں پر مختلف پھول دار پودے بھی اگائے جاتے ہیں۔ مدینہ منورہ کی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سائنسی محقق عبداللہ محمد کابر نے بتایا کہ صحابی رسول سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا وقف کردہ کنواں عہد نبوت کے سات کنوؤں میں سے ایک ہے، دیگر چھ کنوؤں کو اریس، غرس، بضاعہ، بصہ، حاء اور العھن کہا جاتا ہے۔

امام حرم کا دورہ اسلام آباد اپنے استاد سے ملاقات کا سبب بن گیا

امام حرم مکی شیخ صالح آل طالب کا دورہ پاکستان اپنے استاد سے ملاقات کا سبب بن گیا ۔ 35 برس قبل جس استاد نے انہیں حفظ قرآن کریم کروایا تھا ان کی تلاش کامیاب رہی۔ ذرائع نے عقیدت و احترام کے ان لمحات کا ذکر کیا جب امام حرم مکی شیخ صالح آل طالب نے اپنے استاد محمد صابر السلیمانی سے ملاقات کی جس کا بندوبست پاکستان میں متعین سعودی سفیر نے کرایا اور امام حرم مکی کے استاد معظم کو ان سے ملایا۔ استاد و شاگرد کی یہ ملاقات احترام و عقیدت کا نمونہ تھی جب امام حرم مکی شیخ صالح آل طالب نے کھڑے ہو استاد محترم کا استقبال کیا. اور شیخ السلیمانی نے اپنے ہونہار شاگرد کو گلے لگا لیا۔

 واضح رہے 35 برس قبل شیخ محمد صابر السلیمانی ریاض کے ایک مدرسہ تحفیظ القرآن میں متعین تھے جہاں تیسری جماعت کا طالب علم صالح بھی انکے حلقہ درس میں شامل تھا۔ شیخ السلیمانی نے بتایا کہ آل طالب انکے ہونہار طلباء میں شامل تھے انہوں نے انتہائی کم مدت میں کتاب اللہ حفظ کی۔ آج اپنے ہونہار شاگرد کو حرم مکی میں امامت کرتے دیکھ کر سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ شیح السلیمانی نے سعودی سفیر کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی کاوش سے یہ ملاقات ممکن ہو سکی ۔

نفرت کے مقابلے میں محبت بانٹنے کی منفرد مہم

برطانیہ میں انسدادِ دہشت گردی کی پولیس ملک کے مختلف شہروں میں متعدد افراد کو ملنے والے اس نفرت انگیز خط کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے جس میں مسلمانوں پر حملوں کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس خط میں 3 اپریل کو ’پنش اے مسلم ڈے‘ یعنی مسلمانوں کو سزا دینے کا دن، کے طور پر منانے کا کہا گیا ہے۔
خط میں مسلمانوں کے خلاف مختلف پرتشدد اقدمات اور ان کے نتیجے میں ملنے والے ’پوائنٹس‘ کا ذکر ہے۔ نفرت پر مبنی اس خط کے حوالے سے لندن پولیس نے بتایا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹ کے افسران اس خط کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق ان کو اس حوالے سے متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیس کے چیف سپریٹینڈینٹ مارٹن سنوڈن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم مذہب کی بنیاد پر نفرت کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور افسران اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات کی مکمل تحقیقات کریں گے۔‘ دوسری جانب برطانیہ میں نفرت کے مقابلے میں تین اپریل کو مسلمانوں سے محبت کے دن کے طورپر منانے کی ایک منفرد مہم کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جہاں مسلمانوں سے نفرت پرمبنی مواد پھیلانے کی ترغیب دی گئی وہیں سوشل میڈیا پر مسلمانوں سےمحبت کی بھی ترغیب دی جا رہی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ یب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر ’MEND Community‘ کی جانب سے ’Love Muslims Day‘ کے عنوان سے مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کے تحت مسلمانوں کے ساتھ نیکی اور احسان کے ساتھ پیش آنے پر زور دیا گیا ہے۔
برطانوی اخبار ’میٹرو‘ کے مطابق سوشل میڈیا پر مسلمانوں سے نفرت کے مقابلے میں محبت کے لیے جاری عوامی مہم کو زیادہ پذیرائی ملی ہے۔ نسل پرستی مخالف سماجی کارکنان نے مارٹن لوتھر کنک کے الفاظ کو استعمال کیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اندھیرے کو اندھیرے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اندھیرے کو دور کرنے کے لیے روشنی ہی واحد ذریعہ ہے۔ اسی طرح نفرت کا مقابلہ نفرت سے ممکن نہیں بلکہ محبت ہی اس کا واحد حل ہے۔ مہم میں مسلمانوں سے محبت کا ایک دن مقرر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

مسلمانوں سے اچھے برتاؤ کو پوائنٹس سے ظاہر کیا گیا ہے۔ مسلمان سے خندہ پیشانی سے ملنے کے 10، کافی پلانے کی دعوت کے 25 ، مسلمانوں کے ساتھ رمضان اور عید منانے کے 500، شام، عراق، فلسطین، لیبیا، میانمار، یمن اور کشمیر کے مسلمانوں کی مدد کے لیے 1000 پوائنٹس ظاہر کیے گئے ہیں۔ مسلمانوں سے محبت کے لیے جاری کردہ پیغام میں اس روز مسلمانوں س نفرت کے ممکنہ اظہار کو بھی پوائنٹس میں ظاہر کیا گیا ہے۔ لفظی اور زبانی ہراسانی کو 10 پوائنٹس، مسلمانوں پر آتش گیر مادہ پھینکے جانے کے 50 پوائنٹس اور مسجد میں دھماکے یا اسے نذرآتش کرنے کے 1000 پوائنٹس ظاہر کیے گئے ہیں۔

مسلمانوں سے نفرت پر اکسانے والے عناصر نے نفرت انگیز کارروائیوں پر باقاعدہ انعام مقرر کیا ہے۔ اس مہم میں کہا گیا ہے کہ جو شخص مسلمانوں پر آتش گیر مواد پھینکے، انہیں قتل کرے، ذبح کرے یا مسجد میں آگ لگائے اسے انعامات سے نوازا جائے گا۔ خیال رہے کہ برطانیہ، ویلز، اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں 28 لاکھ مسلمان آباد ہیں جوکہ برطانیہ کی کل آبادی کا 4.4 فی صد ہیں۔

صِدّیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسولؐ بس

خلیفۂ اول، سیدنا صدیق اکبرؓ کی حیات مبارکہ اور سیرت و کردار فضائل و مناقب کا تاریخ ساز باب ہے۔ قرآن کریم اور احادیثِ نبویؐ میں آپ کے بے شمارفضائل بیان کیے گئے ہیں۔ مشہورصحابی حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مجھ پر جس شخص نے اپنی دوستی اور مال سے سب سے زیادہ احسان کیے ہیں، وہ ابو بکرؓ ہیں، اگر میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو خلیل بناتا تو ابوبکرؓ کو بناتا‘‘۔ سرکارِ دو عالم ﷺ نے آپ کو امام ہونے کا حکم فرمایا اور باقی تمام مقتدی تھے۔

سیّدنا صدیق اکبرؓ نے دنیا میں اپنی محبوب ترین اور پسندیدہ ترین چیز جو بیان فرمائی، وہ یہ تھی : ’’النظرُ اِلیٰ وَجہِ رَسُول اللہﷺ ‘‘ یعنی دنیا میں سب سے زیادہ میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ میں سرکارِ دو عالم ﷺ کے دیدار سے مشرف ہوتا رہوں۔ فخرِ موجودات، سرورِکائنات، حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : سوائے نبی کے کوئی شخص ایسا نہیں ہے،جس پر آفتاب طلوع اور غروب ہوا ہو اور وہ ابو بکر صدیقؓ سے افضل ہو ‘‘۔

جب اسلام کا آفتاب طلوع ہوا، حضرت ابوبکرؓ بغرض تجارت یمن کے سفر پر تھے، واپس لوٹے ہی تھے کہ اہل مکہ نےآپ کے گرد گھیرا ڈال دیا اور کہا کہ محمد بن عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اللہ کے پیغمبر ہیں، اور ان پر حضرت جبرائیل ؑوحی لے کر آتے ہیں، اس لیے لوگ بے چینی سے آپ کا انتظار کر رہے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ، رسول اللہﷺ کے جاں نثار، تجارتی سفروں کے رفیق اور آپ کی پاکیزہ سیرت واخلاق کے عینی شاہد تھے، اپنی ایمانی بصیرت ، دور اندیشی، و معاملہ فہمی اور اصابت رائے کی قوت سے حقیقت تک پہنچ گئے، درِ رسالت پر پہنچے، وحی و نبوت سے متعلق آپ ﷺکی زبان سے سنا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔

بعض روایتوں میں یہ بھی آتا ہے کہ نبوت ملنے کے بعد حضورﷺ آپ کے گھر تشریف لے گئے، اور اسلام کی دعوت پیش کی، جسےحضرت ابوبکر ؓنے بلا چوں و چرا قبول کر لیا، اسی لیے حضور اکرم ﷺ فرمایا کرتے : میں نے جس پر بھی اسلام پیش کیا، اس میں کچھ نہ کچھ تردد کا اظہار ضرور پایا، سوائے ابوبکر ؓکے ، انہوں نے بلا چوں وچرا اسلام قبول کر لیا۔ آپ نے ابتدا سے انتہا تک ایسی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا کہ کبھی تو صدیقیت کے خطاب سے نوازا گیا، تو کبھی عتیق من النار کا اعزاز بخشا گیا۔ امام ترمذی نے حضرت عائشہؓ سے ایک روایت نقل کی ہے، جس میں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک روز حضرت ابوبکرؓ، حضورﷺ کے پاس آئے، تو حضور ﷺنے فرمایا: تم اللہ کی جانب سے جہنم کی آگ سے آزاد ہو، چناںچہ اسی دن سے آپ کا نام عتیق پڑ گیا۔

واقعۂ معراج کی اطلاع جب قریش مکہ کو ہوئی تو وہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس پہنچے۔ حضرت ابوبکرؓ نے صرف اتنا معلوم کیا کہ کیا واقعی آپ ﷺ نے یہی بات کہی ہے ، تو سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں، تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ اگر محمد ﷺ یہ کہتے ہیں تو بالکل سچ کہتے ہیں، جب رسول اللہﷺ کو یہ معلوم ہوا تو زبانِ رسالت سے آپ کے لیے صدیق کا لقب عطا فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے اپنی زندگی کا اصل مشن ہی تبلیغ اسلام کو بنا لیا، خواہ اس سلسلے میں کتنا ہی ستایا جاتا، لیکن آپ تھے کہ اسلام کی تبلیغ کے لیے ہر قربانی پیش کر رہے تھے۔

آپ کی کوششیں رائیگاں نہیں گئیں، رفتہ رفتہ اسلام پھیلنے لگا، اورایسے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے جو بعد میں چل کر ستون اسلام ثابت ہوئے، ان سب میں آپ کی بے لوث تبلیغ کا اثر تھا، ان سعید روحوں میں جنہوں نے آپ کی وجہ سے اسلام قبول کیا، ان میں ممتاز حضرات یہ ہیں: (۱) خلیفۂ ثالث حضرت عثمان غنیؓ (۲) حضرت عمر ؓکے بعد حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ (۳) حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ (۴) حضرت زبیر بن عوامؓ (۵) فاتح قادسیہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ (۶) فاتح شام حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ۔ (تاریخ طبری:۲/۴۷۶، البدایہ والنہایہ:۳/۳۰) یہ سارے حضرات عشرۂ مبشرہؓ میں سے ہیں۔ یہ حضرات ،حضرت ابوبکر ؓ کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں اسلام لائے۔

روایتوں میں آتا ہے کہ قبول اسلام کے وقت حضرت ابوبکرؓچالیس ہزار درہم کے مالک تھے، یہ تمام درہم آپ نے اسلام کی راہ میں خرچ کیے۔ ان غلاموں و باندیوں کو آزاد کرایا جو پہلے سے ہی غلامی کی وجہ سے نامساعد حالات سے دو چار تھے۔ ان میں مشہور ومعروف موٴذن رسول حضرت بلال ؓ، ان کی والدہ حمامہ، عامر بن فہیرہ، حضرت ابوفکیہہ، حضرت زنیرہ، حضرت ام عبس،حضرت نہدیہ، اور ان کی صاحبزادی، اور بنی موٴمل کی کنیز لبینہ، یا لبیبہ ہیں۔ (البدایہ والنہایہ:۳/۵۸ )
دس نبوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اورجناب ابوطالب کے انتقال کی وجہ سے ”عام الحزن“ کے نام سے تاریخ کی کتابوں میں جانا جاتا ہے۔ پھر مزید طائف کے سفر میں ناروا سلوک کیا گیا۔ آخرکار حضور اکرمﷺ کو ہجرت کا حکم مل گیا، اس دوران غارِ ثور میں قیام فرمایا، حضرت ابوبکرؓ غار کے دہانے پر پہنچے، رسول اللہﷺ کو تھوڑی دیر کے لیے وہیں روک دیا، خود اندر تشریف لے گئے، غار کو خوب اچھی طرح صاف کیا، کچھ سوراخ تھے، جس سے زہریلے جانور وغیرہ کا خطرہ تھا، انہیں اپنی چادر پھاڑ کر بند کیا، پھر حضورﷺ اندر تشریف لے گئے۔آپﷺ زانوئے صدیقی پر سر رکھ کر سو گئے۔

اتنے میں ایک سوراخ نظر آیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنا انگوٹھا اس پر رکھ دیا، ایک روایت کے مطابق کسی زہریلے سانپ نے آپ کو ڈس لیا، تکلیف کی شدت بڑھتی جا رہی تھی، لیکن اس وقت سب سے عظیم ہستی آپ کے زانو پر سر رکھے ہوئی تھی،آپ نے تمام تر تکلیف کے باوجود حرکت بھی نہ کی، آخر درد کی شدت سے آنسو بہہ نکلے اورآپﷺ کے رخ انور پر اس کے بعض حصے گرے، جس سے آ پ ﷺکی آنکھ کھل گئی، حضرت ابوبکرؓ کو آبدیدہ دیکھ کر وجہ دریافت کی۔

حضرت ابوبکرؓ نے ساری تفصیل بتائی، تو حضورﷺنے اپنا لعاب دہن سانپ کے ڈسے ہوئے مقام پر لگا دیا، جس سے تکلیف جاتی رہی۔ ایک مرتبہ کفار غار ثور کے دہانے تک آگئے، آپ نے اس تشویش کا اظہار حضورﷺ سے کیا، آپﷺ نے فرمایا ، ابوبکر: ’’لاتحزن انّ اللہ معنا‘‘ غم کی حاجت نہیں ہے، اللہ کی معیت ہمارے لیے کافی ہے۔ یہ سننا تھا کہ حضرت ابوبکرؓ پر گویا سکینت نازل ہو گئی۔ قرآن پاک نے اس واقعے کو ”ثانی اثنین“ کے لفظ سے ذکر کیا ہے، اس طرح حضرت ابوبکر ؓکو دو میں کا دوسرا کہہ کر جاودانی عظمت و شرف سے سرفراز کیا گیا۔

اس آیت کو شب و روز کے مختلف لمحات میں کروڑوں مسلمان تلاوت کرتے ہیں، اور وہیں پر’’ انّ اللہ معنا‘‘ کا حوالہ بھی پڑھتے ہیں۔ غارثور کے اس واقعے، اور رفاقت و جذبہٴ جاں نثاری کو ”یارِغار“ کے لقب سے جانا جاتا ہے، جس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ انتہائی جاں نثار اور مشکل وقت میں کام آنے والا رفیق۔ آپ حضوراکرمﷺ کے ہم دم و جاں نثار رہے،اور حضورﷺ کی توجہ جن اہم مسائل پر ہوتی، ان میں آپ برابر شریک رہے، بلکہ آپ ہی معتمد خاص اور وزیر خاص تھے، ترمذی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ، میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہیں اور وہ جبرائیلؑ و میکائیلؑ ہیں اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہیں اور وہ ابوبکرؓ و عمرؓ ہیں۔

مختلف معرکوں میں آپ دشمن کے خلاف صف آرا رہے، اور جرأت وشجاعت کی تاریخ رقم کی ۔اللہ پاک نے غزوئہ بدر کے ذریعے اسلام کو وہ عظمت وشوکت دی کہ پھر کفر سر نہ اٹھا سکا۔ اس غزوے میں بے جگری سے صحابہؓ کی قلیل تعداد نے جنگ لڑی ، اسیران قریش کی تعداد ۷۰ تھی۔ آخرمیں حضرت ابوبکرؓ کے مشورے پر فیصلہ ہوا کہ جو پڑھنا لکھنا جانتے ہیں، وہ دس ناخواندہ مسلمانوں کو تعلیم دے کر رہا ہو سکتے ہیں، اور جو خود ناخواندہ ہیں ،وہ فدیہ دے کر رہائی حاصل کریں۔ (البدایہ والنہایہ:۳/۲۹۷) غزوئہ احد وحنین میں ظاہری طور پر مسلمانوں کو اپنی غلطی یا عجلت پسندی کی وجہ سے وقتی ہزیمت ہوئی، ان دونوں معرکوں میں ہم حضرت ابوبکرؓ کو اس طرح پاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات مقدس سے چمٹے ہوئے ہیں کہ مبادا کفار کی یلغار سے رسول خدا ﷺکو زک نہ پہنچے۔ فتح مکہ کے موقع پر حضرت ابوبکرصدیق ؓ ایک حصے کے علم بردار تھے، عام معافی کا دن تھا، کفار مکہ حضورﷺ اور مسلمانوں کے بے پایاں حسن سلوک کو دیکھ کر اسلام سے متاثرہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

۹ھ میں بازنطینی بادشاہ ہرقل، ریاست مدینہ پر حملہ آور ہونے والا تھا۔ یہ مسلمانوں کے لیے شدید آزمائش اور مالی تنگی کا دور تھا۔ تاریخ اس حقیقت کا اظہار کرتی نظر آتی ہے کہ آزمائش کے اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کے جاں نثار صحابی صدیق اکبرؓ اپنا مال و اسباب لیے آرہے ہیں، حضور ﷺ دریافت فرماتے ہیں کہ اہل وعیال کے لیے گھر میں کیا چھوڑا ہے؟ آپ انتہائی سادگی سے فرماتے ہیں کہ اللہ و رسولﷺ کا نام چھوڑ آیا ہوں۔ ( ترمذی:۲/۲۰۸)

دس ہجری میں اعلان عام ہوا کہ رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس حج کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں، اس تاریخ ساز موقع پر ایک لاکھ سے زائدصحابہ ؓ کا مجمع مکہ میں جمع ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ آخری حج تھا، اس لیے اسےحجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ حضورﷺ نے اس موقع پر کئی وقیع خطبے دیے، جن میں دین کے تمام اہم اصولوں کو واضح طور پر بیان کیا، اس دوران آیت ’’ الیوم اَکْمَلْتُ لکم دینکُم واتممتُ علیکُم نعمتی ورضیتُ لکُم الاسلام دیناً، نازل ہوئی ،حضورﷺ نے لوگوں کو اس آیت کی خوش خبری سنائی، سب خوش تھے، لیکن حضرت ابوبکرؓ رو رہے تھے، صحابہؓ کو تعجب تھا کہ یہ تو ایسا موقع نہیں، لیکن آپ صدیقیت کے مقام پر فائز تھے۔

سمجھ رہے تھے کہ دین کی تکمیل کے بعد اب رسول ﷺ کے اس دار فانی سے رخصت کا وقت آپہنچا ہے۔ اب اللہ آپﷺ کو اپنے پاس بلانے والا ہے۔ جب دین کی تکمیل ہو گئی، تو نبی اکرمﷺ کا فریضہ نبوت گویا پورا ہو چکا ہے، کچھ اشارہ غیبی سے بھی اس طرف متنبہ کر دیا گیا، اس لیے آپﷺ نے بھی ساری تیاریاں مکمل کر لیں، سفر حج سے واپسی پر طبیعت ناساز ہو گئی، ابتدائی دنوں میں آپﷺ خود تشریف لاتے اور نماز پڑھاتے، لیکن جب نقاہت زیادہ ہو گئی، تو حضرت ابوبکرؓ کو حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں، ہر چند کہ حضرت ابوبکرؓ رقیق القلب تھے،آپ کے لیے رسول اللہﷺ کی موجودگی میں امامت کے لیے کھڑا ہونا دشوار تھا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ابوبکرؓ نماز پڑھائیں،اس طرح آپ ﷺکی حیات طیبہ میں ہی رحلت سے قبل نمازوں کی امامت حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمائی۔ حضوراکرمﷺ نے دوران مرض ایک روز افاقہ محسوس کیا تو مسجد تشریف لائے، اور منبر پر تشریف رکھ کر فرمانے لگے کہ اللہ پاک نے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ چاہے تو دنیا کو اختیار کرے یا پھر آخرت کو ترجیح دے، چناںچہ اس بندئہ خدا نے آخرت کو ترجیح دی۔

یہ سن کر مجمع میں سے حضرت ابوبکر ؓکی آنکھوں سے زار وقطار آنسو بہنے لگے، حضورﷺ نے فرمایا: ابوبکر! صبر سے کام لو، پھر فرمایا : سب دریچے بند کر دئیے جائیں، صرف ابوبکرؓ کا دریچہ کھلا رہے، پھر حضرت ابوبکرؓ کے احسانات حضور ﷺنے گنوائے۔ حضرت ابوبکرؓ ایک روز صبح کی نماز کے بعد حضور ﷺسے اجازت لے کر مقام ”سُنح“ چلے گئے، اتنے میں حضور اکرم ﷺکا وصال ہو گیا۔ حضرت ابوبکرؓ یہ سن کر دوڑے ہوئے تشریف لائے، مسجد نبوی پہنچے تو دیکھا کہ صحابۂ کرامؓ غم سے نڈھال ہیں، حضرت عمرؓ تلوار لیے کھڑے ہیں،اور اعلان کر رہے ہیں کہ جو کوئی کہے گا کہ محمدﷺ کی وفات ہو گئی ہے، اس کی گردن تن سے جدا کردوں گا۔

حضرت ابوبکرؓ اولاً حجرئہ مبارکہ میں تشریف لے گئے، رخ انور سے چادر ہٹائی، پیشانی کو بوسہ دیا اور طِبْتَ حیًا ومیتًا کہتے ہوئے باہر تشریف لائے۔ حضرت ابوبکرؓ کھڑے ہوئے اور تقریر شروع کی: اے لوگو! تم میں سے جو محمدﷺ کی عبادت کیا کرتا تھا، وہ سن لے کہ محمدﷺ وفات پا چکے ہیں، اور جو کوئی اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا، تو اس کا معبود’’ حی ولایموت‘‘ ہے۔ اس طرح لوگوں کو یقین آگیا کہ حضور ﷺکا وصال ہو چکا ہے۔ یہ ہیں خلیفۂ رسول، یارِغار و مزار سیدنا صدیق اکبرؓ کی زندگی کے سنہری لمحات، جس نے اسلام کے بعد سے وصال نبوی تک جذبہ جاں نثاری و اولوالعزمی کا مظاہر ہ پیش کیا اور اپنی وفات کے بعد بھی رسول اللہﷺ کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔

مفتی محمد نعیم
(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)

غلاف ِ کعبہ ’’کسوہ ‘‘ کے سرکاری خطاط سے ملیے

مختار عالم شقدر کعبۃ اللہ کے غلاف کسوہ کے سرکاری خطاط ہیں۔ وہ اپنے پیش رو عبدالرحیم بخاری کے 1996ء میں انتقال کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے تھے۔
مختار عالم نے 1978ء میں مسجد الحرام کے خطاطی اسکول میں داخلہ لیا تھا اور وہ دو سال تک اس ادارے میں زیر تربیت رہے تھے۔ وہ اس کے ساتھ ایک ایلیمنٹری اسکول میں بھی درجہ چہارم میں زیر ِتعلیم تھے۔ انھوں نے فنون کی تعلیم میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد مختلف تعلیمی اداروں میں بیس سال تک خوش نویسی کے استاد کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان میں جامعہ اُم القریٰ بھی شامل ہے۔ انھوں نے بعد میں خطاطی میں ماسٹرز کیا تھا اور اس وقت مسجد الحرام میں قرآن مجید کی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ مکہ مکرمہ میں عربی خطاطی کے ماہر خوش نویس کے طور پر معروف ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ایک مرتبہ میرے ایک استاد مکرم نے میرا نام کسوہ فیکٹری میں خطاط کے طور پر تجویز کیا تھا اور میں نے اس فیکٹری میں 2003ء میں کام شروع کیا تھا۔ میں نے کمپیوٹرز کے ذریعے خطاطی کی تجویز پیش کی تھی ۔ اس وقت غلافِ کعبہ پر نظر آنے والی تمام خطاطی مرحوم عبدالرحیم بخاری نے متعارف کرائی تھی ۔ البتہ میں نے اس میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کی ہیں اور اس پر شاہ عبداللہ مرحوم اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے نام لکھے ہیں۔ اس کے علاوہ غلاف کے بعض خالی حصوں پر خطاطی کا اضافہ کیا ہے‘‘۔

انھوں نے وضاحت کی ہے کہ بعض لوگوں کے خیال میں کسوہ پر ہر سال قرآنی آیات کی نئے سرے سے خطاطی کی جاتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ فیکٹری نے مستقبل میں استعمال کے لیے سانچے بنا رکھے ہیں۔ ان سانچوں کی تیاری کے مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ اول ، قرآنی آیات کا متن کاغذ کے کسی ٹکڑے پر ہاتھ سے لکھا جاتا ہے، پھر انھیں ایک گرافک آرٹسٹ کمپیوٹر نظا م میں شامل کرتا ہے۔ پھر کمپیوٹر سے اس متن کا ایک صاف کاغذ پر پرنٹ لیا جاتا ہے اور اس کو سانچے کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر سانچے کو کشیدہ کاری کے شعبے میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں ہنر مند کشیدہ کار سنہرے اور نقرئی دھاگے کی مدد سے کسوہ کو سیتے اور قرآنی الفاظ کو نمایاں کرتے ہیں ۔ ان کے بہ قول کسوہ فیکٹری کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے یہ مدد ملی ہے کہ اس ذریعے سانچوں کے ڈیٹا کو محفوظ کر لیا جاتا ہے اور اس طرح اس کو ضائع ہونے سے بچا لیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

امام کعبہ کی پاکستان آمد

حجاز مقدس پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے لائق صد احترام ہے۔ کعبۃ اللہ اور مسجد نبوی کی اس سرزمین پر موجودگی اسے پوری مسلم امہ کا مرکز بناتی ہے۔ حرمین شریفین کی حاضری ہر مسلمان کی دلی آرزو ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات ہمیشہ دوستانہ بلکہ عقیدت مندانہ رہے جن پر بین الاقوامی تبدیلیوں اور خارجہ پالیسی میں شامل و خارج کی جانے والی ترجیحات کبھی اثر انداز نہ ہوئیں۔ کبھی دونوں ملکوں کے مابین کوئی غلط فہمی بھی پیدا ہوئی تو اسے جلد ہی دور کر لیا گیا۔ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات اگرچہ قیام پاکستان کے وقت ہی استوار ہو گئے تھے تاہم اس نوع کے باقاعدہ معاہدے پچاس کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوئے جو آج بھی موجود ہیں بلکہ ان میں ماضی کی نسبت زیادہ گہرائی اور گیرائی آچکی ہے۔

الغرض دونوں ملکوں میں جو سب سے اہم ربط ہے وہ اسلامی اخوت کا ہے، جو کبھی زوال پذیر نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔ اسی جذبہ اخوت کے تحت امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد آل طالب آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں جہاں ان کی فقید المثال پذیرائی کی جا رہی ہے۔ کالا شاہ کاکو میں بھی خطبہ جمعہ میں امام کعبہ نے کہا کہ دہشت گردی اور فساد ناقابل برداشت ہے، امت مسلمہ کی وحدت ہی مسائل کا حل ہے، عالم اسلام اختلافات چھوڑ کر ایک ہو جائے۔ پاکستان اور سعودیہ کے درمیان اخوت، محبت اور ایمان کے رشتے ہیں جنہیں کوئی قوت ختم نہیں کر سکتی۔

امام کعبہ کی باتیں حرف بہ حرف درست ہیں، پوری امہ کا اتحاد ہی اس کی بقا کا ضامن ہے ورنہ اسلام دشمن قوتیں انہیں باہمی اختلافات میں الجھا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتی رہیں گی۔ پوری دنیا کے مسلمان اگر نبی رحمت ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع پر اس کی روح کے مطابق عمل پیرا ہو جائیں تو ان کے بیشتر مسائل خود بخود ہی حل ہو جائیں۔ مسلم امہ کو اس راہ پر چلنا ہو گا۔

اداریہ روزنامہ جنگ